اردوئے معلیٰ

’’تپشِ مہرِ قیامت کو سہیں ہم کیسے‘‘

 

’’تپشِ مہرِ قیامت کو سہیں ہم کیسے‘‘

سوچتے ہیں کہ اِس دل سے مٹیں غم کیسے

سایۂ گیسوٗے رحمت مرے آقا دے دو

’’اپنے دامانِ کرم کا ہمیں سایا دے دو‘‘

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ