تڑپتی، رینگتی، لوگوں کے ہاتھوں مر مر کر

تڑپتی، رینگتی، لوگوں کے ہاتھوں مر مر کر

نہیں وہ زندگی جائز کہ جو ہو ڈر ڈر کر

 

تُو آنکھ بھر کے مجھے دیکھ لے مِرے پیارے

وگرنہ بعد میں روئے گا آنکھ بھر بھر کر

 

اثر نہ سجدوں کا دل کی سیاہیوں پہ ہوا

سِیاہ ہو گئی تیری جبین دھر دھر کر

 

معاف تجھ کو کروں گا مگر زرا پہلے

تُو میرے پاؤں پکڑ اور کانپ تھر تھر کر

 

زباں سے آخری دم نکلاعشق کا کلمہ

تجھے یہ کس نے کہا تھا کہ یاد فرفر کر

 

اے میرے یار! زرا آس پاس دیکھ تو لے

تُو بات بات پہ کہتا ہے عشق کر ،کر ،کر

 

ہے بارگاہِ محبت، امیر! حدِّ ادب

یوں آستینیں چڑھا کر نہ اتنا ٹر ٹر کر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ