اردوئے معلیٰ

تڑپتے مضمحل ہر پل پئے دیدار اچھے ہیں

مسیحا آپ ہو جائیں تو ہم بیمار اچھے ہیں

 

اگر نیرنگیٔ دنیا سے ہیں بیزار اچھے ہیں

درِ آقا پہ زیرِ سایۂ دیوار اچھے ہیں

 

ذلیل و خوار جو تھے آج عزّت دار اچھے ہیں

بُرے بھی آپ کے ہو کر مرے سرکار اچھے ہیں

 

نظر سے چومتا پھرتا ہوں ہر سو خاکِ طیبہ کو

جہاں سے آپ گزرے کوچہ و بازار اچھے ہیں

 

بڑی اچھی گزرتی ہے درِ سرکار پر اپنی

منوّر روح ہوتی ہے کہ یہ انوار اچھے ہیں

 

دو عالم سے جُدا ہے گلشنِ طیبہ کی رعنائی

گلوں کا ذکر کیا اُس جا جہاں کے خار اچھے ہیں

 

نہ مجھ کو فکر دنیا کی نہ مجھ کو فکر عقبیٰ کی

مجھے کس بات کا غم جب مرے غمخوار اچھے ہیں

 

مجھے مل جائے میری نعت گوئی کا صلہ عارف

مرے آقا جو فرما دیں ترے اشعار اچھے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات