اردوئے معلیٰ

تڑپ رہے ہیں یہاں ہزاروں

تڑپ رہے ہیں یہاں ہزاروں

پہنچ رہے ہیں وہاں ہزاروں

 

عجیب در ہے کہ جس کے زائر

نِہاں ہزاروں عیاں ہزاروں

 

غلام تھے سرفروش ان کے

جو لکھ گئے داستاں ہزاروں

 

قلوب میں عشقِ احمدی کے

نجوم ہیں ضو فشاں ہزاروں

 

رواں دواں ہیں ہر ایک جانب

یقین کے کارواں ہزاروں

 

عزیزؔ تم نعت کیا کہو گے

ہیں ان کے مداح یاں ہزاروں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ