اردوئے معلیٰ

تھا سکوں نا آشنا جو دل اسے اب چین ہے

 

تھا سکوں نا آشنا جو دل اسے اب چین ہے

جب سے مصروفِ ثنائے سرورِ کونین ہے

 

آمنہ بی کا جگر گوشہ ہے نورِ عین ہے

جانِ عبد اللہ، جدِّ امجدِ حسنین ہے

 

عرش کا تارا وہ سب کا قرۃ عینین ہے

بندۂ محبوبِ یزداں ہے شہِ کونین ہے

 

وہ شہنشاہِ ہدیٰ ہے ہادی نجدین ہے

قبلۂ اہلِ جہاں ہے کعبۂ دارین ہے

 

اس کی آقائی مسلّم ہے ہمیشہ کے لئے

ہاں نہ مانے گا وہی جو دَر حجابِ رَین ہے

 

وہ مہِ تاباں کہ چمکا تھا سرِ فاراں کبھی

نور افشاں بارک اللہ تا سرِ قطبین ہے

 

چھوڑنا دامن نبی کا ہے خدا کو چھوڑنا

ربطِ واحد خالق و مخلوق کے مابین ہے

 

فرش پر بستر ہے اس کا ہے غذا نانِ جویں

کرّ و فر سے مجتنب وہ سرورِ کونین ہے

 

واہ وہ ساتھی کہ جس کا چولی دامن کا ہے ساتھ

غار کی خلوت میں بھی وہ واحد الاثنین ہے

 

دیدنی ہے اوجۂ تقدیرِ صدیقؓ و عمرؓ

بعد مردن بھی نبی سے قربتِ شیخین ہے

 

مل گئی سارے زمانے کی شہنشاہی اسے

اے نظرؔ جو بہرہ مندِ صدقۂ نعلین ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ