اردوئے معلیٰ

تھک نہیں سکتے کسی صورت ، مرے مدحت کے ہاتھ

تھک نہیں سکتے کسی صورت ، مرے مدحت کے ہاتھ

دست گیری کر رہے ہیں جب تری رحمت کے ہاتھ

 

ملتی رہتی ہے انہیں خیرات تیرے شہر سے

آتے رہتے ہیں یہاں قسمت طلب نکہت کے ہاتھ

 

بانٹتے ہیں خُشک موسم میں طراوَت کی نوید

فصلِ گُل برکف ہیں دونوں قاسمِ نعمت کے ہاتھ

 

آپ جیسا جب سخی ہے ، آپ جیسا جب غنی

منفعل ہوں گے کہاں پھر بندۂ حاجت کے ہاتھ

 

اِک عطا پر منحصر ہے نعت گوئی کا شرف

ورنہ اُن کی نعت اور یہ خامۂ حیرت کے ہاتھ ؟

 

ممکناتِ حرف سے کِھلتے نہیں مدحت کے رنگ

پُھول ، تارے ٹانکتے رہتے تو ہیں نُدرت کے ہاتھ

 

مشرقِ جاں کو طلوعِ مہر کی حاجت نہیں

روشنی تفویض کرتے ہیں تری طلعت کے ہاتھ

 

لمس مٹھی میں مہکتا ہے فرازِ عرش کا

تیری چوکھٹ چُھو رہے ہیں آج کس نسبت کے ہاتھ

 

فکر میں غلطیاں نہیں ہے بندۂ عصیاں سرشت

عجز کے مونس ہیں تیرے عفو کی قُدرت کے ہاتھ

 

بحرِ اعجازِ سخن میں مدحتیں ہیں موج موج

کف بہ کف گوہر بھرے ہیں آیہ و سورت کے ہاتھ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ