اردوئے معلیٰ

تیرگی ذکرِ شہِ دین سے مر جاتی ہے

تیرگی ذکرِ شہِ دین سے مر جاتی ہے

روشنی میرے خیالات میں بھر جاتی ہے

 

صرف اسلام کا رستہ ہے وہ روشن رستہ

زندگی جس پہ توازن سے گزر جاتی ہے

 

اس لیے مجھ پہ شب و روز کرم ہے اُن کا

دلِ بے تاب کی طیبہ میں خبر جاتی ہے

 

ذکرِ سرکار کی لذّت ہے میسّر ہم کو

رات کانٹوں پہ بھی آئے تو گزر جاتی ہے

 

نعت کہتے ہوئے نادم بھی بہت ہوتا ہوں

اپنے اعمال پہ جب میری نظر جاتی ہے

 

آپ کے اِذن سے تاثیر ملی لفظوں کو

آپ کی بات جو سینوں میں اُتر جاتی ہے

 

کیوں نہ خوش بخت ہوں مولا کے نوازے ہوئے لوگ

زندگی جن کی اطاعت میں سنور جاتی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ