ثنائے مصطفی ہے اور میں ہوں

ثنائے مصطفی ہے اور میں ہوں

کرم کی انتہا ہے اور میں ہوں

 

تصوّر میں درِ شاہِ عطا ہے

عطاؤں پر عطا ہے اور میں ہوں

 

مجھے بھی ایک جلوہ پیارے آقا

میری یہ التجا ہے اور میں ہوں

 

میری خوش بختیاں کہ میرے لب پر

درودوں کی صدا ہے اور میں ہوں

 

اُنہی کی جستجو میں زندگی ہے

اُنہی سے ہر دعا ہے اور میں ہوں

 

رضاؔ مجھ کو جو عزت مل رہی ہے

یہ آقا کی عطا ہے اور میں ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مری جاں سے قریں میرا خُدا ہے
دل کہاں ضبط میں ہے،آنکھ کہاں ہوش میں ہے
بھیک ہر ایک کو سرکار سے دی جاتی ہے
شاہا ! سُخن کو نکہتِ کوئے جناں میں رکھ
اور کیا چاہیے بندے کو عنایات کے بعد
محظوظ ہو رہے ہیں وہ کیفِ طہور سے
عدن بنا گیا مسجد کو اپنے سجدوں سے
ہر لفظ حاضری کا سوالی ہے نعت میں
کر کے رب کی بندگی خاموش رہ
یہ لبوں کی تھرتھراہٹ یہ جو دل کی بے کلی ہے

اشتہارات