اردوئے معلیٰ

ثنا خوانِ محمد پتّہ پتّہ ڈالی ڈالی ہے

کہ خود توصیف اس نے کی ہے جو گلشن کا مالی ہے

 

تری صورت خدا نے نور کے سانچے میں ڈھالی ہے

ترا اخلاق اونچا ہے ترا کردار عالی ہے

 

تیری سیرت مطہر ہے، منوّر ہے، نرالی ہے

تری تعلیم پاکیزہ ترا اسوہ مثالی ہے

 

سرِ عرشِ بریں پہنچی ہوئی وہ ذاتِ عالی ہے

شبِ معراج نے دیکھا کہ بستر اس کا خالی ہے

 

کہیں کا کوئی سلطاں ہے کہیں کا کوئی والی ہے

ترے دربار میں آ کر مگر ہر اک سوالی ہے

 

تمہارا دین آساں ہے مطابق عین فطرت کے

کوئی افراط کا پہلو نہ کچھ بے اعتدالی ہے

 

قیامت تک تمہاری ہے بغیرِ شرکتِ غیرے

رسالت کاملہ کی آ کے جو گدّی سنبھالی ہے

 

جمال ان کا ہے کیف آگیں ادائیں دل نشیں ساری

اُتر جاتی ہے دل میں بات وہ شیریں مقالی ہے

 

پسِ مُردن بھی صدیقؓ و عمرؓ ساتھی ہیں مرقد میں

نہ ان سے پہلے خالی تھا ترا پہلو نہ خالی ہے

 

تھی اپنی فکر ژولیدہ، پراگندہ و فرسودہ

ترے قرآں کی منّت کش مری روشن خیالی ہے

 

ترے روضے کو چومیں پے بہ پے جوشِ عقیدت سے

ہمارے درمیاں حائل مگر روضے کی جالی ہے

 

مرے آقا گناہوں میں کٹی ہے زندگی ساری

سرِ محشر نظرؔ تجھ سے شفاعت کا سوالی ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات