اردوئے معلیٰ

ثنا ہے لب پہ شاہِ دوسرا کی

سراپا جو کہ ہے رحمت خدا کی

 

زہے سیرت محمد مصطفیٰ کی

کہ خود ربِ دو عالم نے ثنا کی

 

بیاں کیا ذاتِ اقدس کی ہو پاکی

کہ اس نے سیر کی عرشِ عُلا کی

 

وہاں تک روشنی ہے نقشِ پا کی

جہاں پہنچے کوئی نوری نہ خاکی

 

وفا نا آشناؤں نے جفا کی

مگر اس جانِ رحمت نے دعا کی

 

جنہیں درکار ہو کیف، مخلّد

پئیں وہ رند جامِ مصطفیٰ کی

 

مجھے کافی ہے سنگِ آستاں وہ

تمنا کب ہے لعلِ بے بہا کی

 

حرم کو دیکھ کر روضہ بھی دیکھیں

ادھوری رہ نہ جائے دل کی پاکی

 

ابو بکرؓ و عمرؓ عثمانؓ و حیدرؓ

ترے پہلو میں تصویریں وفا کی

 

نبی ان سا تمہیں جب مل گیا ہے

ضرورت کیا نظرؔ پھر ماسوا کی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات