اردوئے معلیٰ

Search

 

جاتے ہیں سوئے مدینہ گھر سے ہم

باز آئے ہندِ بد اختر سے ہم

 

مار ڈالے بے قراری شوق کی

خوش تو جب ہوں اِس دلِ مضطر سے ہم

 

بے ٹھکانوں کا ٹھکانا ہے یہی

اب کہاں جائیں تمہارے دَر سے ہم

 

تشنگیِ حشر سے کچھ غم نہیں

ہیں غلامانِ شہِ کوثر سے ہم

 

اپنے ہاتھوں میں ہے دامانِ شفیع

ڈر چکے بس فتنۂ محشر سے ہم

 

نقشِ پا سے جو ہوا ہے سرفراز

دل بدل ڈالیں گے اُس پتھر سے ہم

 

گردن تسلیم خم کرنے کے ساتھ

پھینکتے ہیں بارِ عصیاں سر سے ہم

 

گور کی شب تار ہے پر خوف کیا

لَو لگائے ہیں رُخِ انور سے ہم

 

دیکھ لینا سب مرادیں مل گئیں

جب لپٹ کر روئے اُن کے دَر سے ہم

 

کیا بندھا ہم کو خد جانے خیال

آنکھیں ملتے ہیں جو ہر پتھر سے ہم

 

جانے والے چل دیئے کب کے حسنؔ

پھر رہے ہیں ایک بس مضطر سے ہم

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ