اردوئے معلیٰ

جان و ایماں سے بڑھ کے پیارا ہے

 

جان و ایماں سے بڑھ کے پیارا ہے

ان کا غم شوق کا سنوارا ہے

 

مہر و مہ حشر تک کریں گے طواف

چشمِ سرکار کا اشارا ہے

 

ہاتھ پھیلانے کی نہیں حاجت

کیسے داتا کا یہ دوارا ہے

 

ہر کسی کے شریکِ غم ہیں حضور

کون دنیا میں بے سہارا ہے

 

کیا کہوں سبز سبز گنبد کو

نورِ وحدت کا ایک دھارا ہے

 

اِن کو دیکھو اور اُس کو پہچانو

یہ نظارا بھی کیا نظارا ہے

 

بحرِ عشقِ حضور صلِّ علیٰ

بیچ منجدھار بھی کنارا ہے

 

عرش سے آئی ہے صبیحؔ  آواز

جب کبھی آپ کو پکارا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ