جان ہیں آپؐ جانِ جہاں آپؐ ہیں

 

جان ہیں آپؐ جانِ جہاں آپؐ ہیں

وجہِ تخلیقِ کون و مکاں آپؐ ہیں

 

جا بہ جا آیتوں میں عیاں آپؐ ہیں

ہم جہاں دیکھتے ہیں وہاں آپؐ ہیں

 

بے بسوں کے وکیل آپؐ ہیں یا نبیؐ

بے شبہ حامیء بے کساں آپؐ ہیں

 

سخت ہے حشر کی دُھوپ مانا ، مگر

سر کے سائیں مرے سائباں آپؐ ہیں

 

ربّ نے کچھ بھی چھپایا نہیں آپؐ سے

واقفِ علمِ غیب و نہاں آپؐ ہیں

 

نعت گوئی کی دولت عطا ہو گئی

کتنے اشفاقؔ پر مہرباں آپؐ ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کس کی آمد ہے یہ کیسی چمن آرائی ہے
قافلے سارے مدینے کو چلے جاتے ہیں
یہ دنیا سمندر ، كنارا مدینہ
مصطفےٰ آپ ہیں مرتضٰے آپ ہیں
قدرتِ حق کا شہکارِ قدرت اک نظردیکھ لوں دور ہی سے
کب چھڑایا نہیں ہم کو غم سے کب مصیبت کو ٹالا نہیں ہے
ہوش و خرد سے کام لیا ہے
دھڑک رہا ہے محمدؐ ہمارے سینے میں
سنا ہے شب میں فرشتے اُتر کے دیکھتے ہیں
مجرمِ ہیبت زدہ جب فردِ عصیاں لے چلا