اردوئے معلیٰ

جاہِ دنیا نہ خود نمائی دے

زیورِ عشقِ مصطفائی دے

 

نعت خوانی کروں تو جھومے فضا

اے خدا ایسی خوش نوائی دے

 

شہرِ محبوب میں اڑان بھرے

فکر کو شہپرِ رسائی دے

 

عَرَفَ نَفسَہ‘ کا فیض ملے

مجھ کو مولا خود آشنائی دے

 

پیرہن ہو عطا خشیت کا

روح کو ذوقِ خوش قبائی دے

 

بخش توفیقِ طاعت و تقویٰ

معصیت سے گریز پائی دے

 

جذبِ صدیق بخش دے مولا

صدقۂ زورِ مرتضائی دے

 

جودِ عثمان ، عدلِ فاروقی

حوصلے ہم کو کربلائی دے

 

یا خدا بہرِ حضرتِ نوّاب

مجھ کو بھی فیضِ بوالعلائی دے

 

پھر عطا کر تجلیات حرم

پھر مدینہ مجھے دکھائی دے

 

اور بڑھ جائے میرا سوزِ دروں

میں نہیں چاہتی رہائی دے

 

ہے زبوں حال امت مرحوم

دے اسے پھر سے پیشوائی دے

 

ہو صدفؔ کا شعار مدحِ رسول

شوق دے اور انتہائی دے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات