اردوئے معلیٰ

جاہ و حشم نہ لعل و جواہر کی بات ہے

جاہ و حشم نہ لعل و جواہر کی بات ہے

انعامِ عشق صرف مقدر کی بات ہے

 

جس وقت چاہو اُٹھ کے مرے دل میں آ رہو

چھوڑو تکلفات میاں! گھر کی بات ہے

 

پھیلا تو پھیلتا ہی گیا لمحۂ فراق

تُو نے تو کہہ دیا تھا کہ پل بھر کی بات ہے

 

عالم پناہ! عشق پہ چلتا نہیں ہے زور

یہ تو خطا مُعاف ، مقدر کی بات ہے

 

مت پوچھ میں نے عشق پہ کیوں جان وار دی

دُنیا! یہ تیری سوچ سے اُوپر کی بات ہے

 

فارس تو چاہے لاکھ بہانے بنا مگر

ہم خوب جانتے ہیں جو اندر کی بات ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ