جبینِ خامہ حضورِ اکرم کے سنگِ در پر جھکائے راکھوں

 

جبینِ خامہ حضورِ اکرم کے سنگِ در پر جھکائے راکھوں

حسین لفظوں کی کہکشائیں برائے سرور سجائے راکھوں

 

قلم سے نوشابۂ عقیدت ہمیشہ جاری رہے الٰہی

ازل کی تشنہ سماعتوں کو جمیل ساغر پلائے راکھوں

 

اگرچہ شایانِ شانِ پاپوشِ پائے اقدس نہیں ہیں لیکن

یہ آرزو ہے کہ ان کی راہوں میں اپنی پلکیں بچھائے راکھوں

 

ندامتوں سے نظر اٹھانا محال ہے ان کے آستاں پر

سنہری جالی کی خوشنمائی پہ کیسے نظریں جمائے راکھوں

 

مرا تصور رہے ہمیشہ قدومِ آقا میں دست بستہ

میں اپنی سوچوں کو باندیاں کر کے سنگِ در پر بٹھائے راکھوں

 

تمہاری لطف و کرم کی عادت نے میرے کانوں میں کہہ دیا ہے

چراغِ امید اپنی آنکھوں کے طاقچوں میں جلائے راکھوں

 

نعوت رکھنا مرے کفن میں مرے وصایا میں درج کر لو

لحد میں آئیں جو شاہِ عالم تو ان کو پڑھ کر سنائے راکھوں

 

تصوراتی حرا ہو اشفاقؔ میرے سینے کے بام و در میں

حریمِ دل کے گداز گوشوں میں ان کی صورت بسائے راکھوں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

محمد مصطفیٰ سالارِ دیں ہیں
سوچتے سوچتے جب سوچ اُدھر جاتی ہے
وہ جو قرآن ہو گیا ہوگا
کوئی مثل مصطفیٰ کا کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا
آخری عکس
رکھا بے عیب اللہ نے محمد کا نسب نامہ​
حقیقت میں تو اس دنیا کی جو یہ شان و شوکت ہے
نبی کی نعت پڑھتا ہوں کہ ہے یہ دل کشی میری
ذاتِ والا پہ بار بار درود
نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے سے

اشتہارات