جب اوجِ سخن کعبۂ ادراک میں خم ہو

جب اوجِ سخن کعبۂ ادراک میں خم ہو

تب جا کے تری مدح میں اِک حرف رقم ہو

 

کیا طرزِ عنایت ہے ترے دستِ سخا کی

اِک بار کریں عرض تو سو بار کرم ہو

 

جس خاک سے ہے روح کا دیرینہ تعلّق

اے کاش اُسی خاک میں یہ جسم بھی ضم ہو

 

احساس میں در آئے ترے خواب کی خوشبو

بے صوت رواں دل پہ ترا نازِ قدم ہو

 

جب پانی میں رُکتا ہی نہیں عکس مسلسل

مستغنی کہاں دید سے پھر دیدئہ نم ہو

 

ترحیب کی تزئین میں تھے کُن کے مظاہر

نقّاشِ حقیقی کا تمھی نقشِ اَتم ہو

 

اُس سمت ہی کھُل جائیں کریمی کے دریچے

جس سمت ہی مائل بہ کرم دستِ نِعَم ہو

 

اظہار میں رکھ دے کوئی امکان کی صورت

اے جانِ جہاں ! ہجر کا احساس تو کم ہو

 

لہرائے جو اِک پَل کو غِنا بار سیادت

یہ سطوتِ شاہی تو ترا عکسِ حشَم ہو

 

کیا اوجِ عنایت پہ ہو وہ یومِ تسلی

وہ آتے ہوں اور جاتا ہُوا آخری دَم ہو

 

مقصودؔ! سرِ شام جو آجائے بُلاوا

واللہ! سحَر کھولے ہُوئے بابِ ارَم ہو

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حشر میں مجھ کو بس اتنا آسرا درکار ہے
شکستہ حال اپنے دل کو سمجھانے کہاں جاتے
رخ پہ رحمت کا جھومر سجائے کملی والے کی محفل سجی ہے
طیبہ کی اُس ریت پہ پھولوں کے مسکن قربان
حقیقتِ مصطفی کہوں کیا کہ اضطراب اضطراب میں ہے
قلم خوشبو کا ہو اور اس سے دل پر روشنی لکھوں
وہ جو شبنم کی پوشاک پہنے ہوئے
میں پہلے آبِ زم زم سے قلم تطہیر کرتا ہوں​
گل شاہ بحر و بر کا اک ادنیٰ غلام ہے
نہیں ہے ارض وسما میں کوئی شریک خدا

اشتہارات