اردوئے معلیٰ

Search

جب سے اپنا سر درِ خیر الوریٰ پر رکھ دیا

بخت میرا ربِّ کعبہ نے بدل کر رکھ دیا

 

یوں ہوا فیضانِ الطافِ شہِ کون و مکاں

وسعتِ دامانِ سائل سے فزوں تر رکھ دیا

 

اصل میں اُن کے پسینے کی مہک کا فیض ہے

نام جس کا ہم نے عُود و مُشک و عنبر رکھ دیا

 

واصفِ سلطان بحر و بر کا رتبہ دیکھیے

واسطے حسّان کے آقا نے منبر رکھ دیا

 

ہر قبیلے کو تھما کر اپنی چادر کا سرا

آپ نے دیوارِ کعبہ میں وہ پتھر رکھ دیا

 

ایک لمحے میں علی کی آنکھ روشن ہو گئی

جب مرے آقا نے اپنا دستِ اطہر رکھ دیا

 

شورشِ موّاج میں جس دم پکارا یا نبی!

موج قلزم سے مری کشتی کو باہر رکھ دیا

 

آ گئے سرکار میری مشکلیں حل ہو گئیں

جب مجھے احباب نے مرقد کے اندر رکھ دیا

 

میرے چہرے کی چمک اُس دن سے ہے ازہرؔ فزوں

جب سے اپنا سر درِ خیر البشر پر رکھ دیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ