جب سے کوئے سرورِ دیں کی شناسائی ملی

جب سے کوئے سرورِ دیں کی شناسائی ملی

مجھ سے بے مایہ کو خلقت میں پذیرائی ملی

 

ہو گئے جس دم تبسم ریز میرے مصطفیٰ

کھل اٹھا رنگِ چمن پھولوں کو رعنائی ملی

 

دم بہ دم رہتا ہے میرے لب پہ نامِ مصطفیٰ

اس لیے ہر ایک مشکل مجھ سے گھبرائی ملی

 

لب ملے ہیں چومنے کو نقشِ پائے مصطفیٰ

ذکر کرنے کو انہی کا مجھ کو گویائی ملی

 

ایک عالم ان کی خاکِ پا کا دیوانہ ملا

ایک دنیا ان کے شیدائی کی شیدائی ملی

 

جستجو کرتے ہوئے پہنچی جو میری زندگی

بارگاہِ مصطفیٰ میں میری تنہائی ملی

 

واپسی کا نام بھی لیتا نہیں ہے اب مجیبؔ

ان کے در پر جا کے دیوانے کو دانائی ملی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

شــیوہ عـــفو ہــو ، پیـــمانہ سالاری ہـــو
مشکلوں میں پکارا کرم ہی کرم
فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں
تمہیؐ سرور تمہیؐ ہو برگزیدہ یارسول اللہؐ
اگر میں عہد رسالت ماب میں ہوتا
جان ہیں آپؐ جانِ جہاں آپؐ ہیں
ہر موج ہوا زلف پریشانِ محمدؐ
رشکِ ایجاب تبھی حرفِ دعا ہوتا ہے
قصہء شقِّ قمر یاد آیا​
ہم گداؤں بے نواؤں کا سہارا آپ ہیں

اشتہارات