اردوئے معلیٰ

جب لیتا ہوں میں نام ترا مری صبح حسیں ہو جاتی ہے

ہر سانس مہکنے لگتی ہے تابندہ جبیں ہو جاتی ہے

 

جب صحن چمن میں جا کر میں کھلتی کلیوں کو دیکھتا ہوں

مرے گرد و پیش کی ساری فضا فردوس بریں ہو جاتی ہے

 

جو مانگتا ہوں ترے در سے وہ ملنے میں اگر کچھ دیر بھی ہو

اٹھتے ہیں دعا کو ہاتھ جہاں تسکین وہیں ہو جاتی ہے

 

سب بگڑے کام انسانوں کے بس تیرے کرم سے بنتے ہیں

ہم آس لگا لیتے ہیں کہیں اور پوری کہیں ہو جاتی ہے

 

مایوس تو ہوں دنیا سے مگر تری رحمت سے مایوس نہیں

ترے ابر کرم سے اک پل میں شاداب زمیں ہو جاتی ہے

 

ٹھکرا دیتا ہے اک پل میں وہ کون و مکاں کی دولت کو

جب جوشؔ کسی کے دل میں لگن اللہ کی مکیں ہو جاتی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات