اردوئے معلیٰ

Search

جب چھڑا تذکرہ میرے سرکار کا میرے دل میں نہاں پھول کھلنے لگے

آسماں سے چلیں نور کی ڈالیاں پھر جہاں در جہاں پھول کھلنے لگے

 

ایک پر نور قندیل چمکی ہے پھر میرے احساس میں میرے جذبات میں

آنکھ پرنم ہوئی ہونٹ تپنے لگے روح میں جاوداں پھول کھلنے لگے

 

ان کی رحمت سے پر نور سینہ ہوا مجھ گنہ گار کا دل مدینہ ہوا

دھڑکنیں مل گئیں میرے افکار کو سنگ کے درمیاں پھول کھلنے لگے

 

آپ آئے تو تہذیب روشن ہوئی اور تمدن میں اک انقلاب آگیا

آدمیت کو انسانیت مل گئی گلستاں گلستاں پھول کھلنے لگے

 

آس تاریکیوں میں بھٹکتا رہا، شکر صد شکر اے دامن مصطفےٰ

تو ملا تو قلم کو ملی روشنی اس کی زیر زباں پھول کھلنے لگے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ