جب چھڑا تذکرہ میرے سرکار کا میرے دل میں نہاں پھول کھلنے لگے

جب چھڑا تذکرہ میرے سرکار کا میرے دل میں نہاں پھول کھلنے لگے

آسماں سے چلیں نور کی ڈالیاں پھر جہاں در جہاں پھول کھلنے لگے

 

ایک پر نور قندیل چمکی ہے پھر میرے احساس میں میرے جذبات میں

آنکھ پرنم ہوئی ہونٹ تپنے لگے روح میں جاوداں پھول کھلنے لگے

 

ان کی رحمت سے پر نور سینہ ہوا مجھ گنہ گار کا دل مدینہ ہوا

دھڑکنیں مل گئیں میرے افکار کو سنگ کے درمیاں پھول کھلنے لگے

 

آپ آئے تو تہذیب روشن ہوئی اور تمدن میں اک انقلاب آگیا

آدمیت کو انسانیت مل گئی گلستاں گلستاں پھول کھلنے لگے

 

آس تاریکیوں میں بھٹکتا رہا، شکر صد شکر اے دامن مصطفےٰ

تو ملا تو قلم کو ملی روشنی اس کی زیر زباں پھول کھلنے لگے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

محبت کیجیے ربّ العلیٰ سے
تصوّر آپؐ کا میں نے دِل و جاں میں اُتارا ہے
متاعِ زیست کا ہر پل سعید کرتا ہُوں
محبوبِ ربِّ انس و جاں میرے حضورؐ ہیں
جب شعر ہُوا اسمِ محمد سے مُرصّع
چراغِ عقیدت کو دل میں جلا کر
بوسۂ نُور کی تخلید ہے، سنگِ اسوَد
مر بھی جائے تو تری بات سے جی اُٹھتا ہے
مقصودِ دعا قلب پہ ظاہر ہوا جب سے
ہوجائے میری حاضری طیبہ نصیب سے