جذبۂ الفت شہہِ خیراُلامم ﷺ کی نذر ہے

جذبۂ الفت شہہِ خیراُلامم ﷺ کی نذر ہے

میری مدحت آپؐ کی چشمِ کرم کی نذر ہے

 

آج پھر احساسِ دوری بڑھ رہا ہے دم بدم

آج پھر رودادِ غم لوح و قلم کی نذر ہے

 

کاش میں دربارِ سرور ﷺ میں پہنچ کر کہہ سکوں

زندگی کی ناؤ اب بحرِ عدم کی نذر ہے

 

میرے سجدوں کے لیے اک سمت ہے کعبہ مگر

عزمِ طاعت صرف شاہِ ذوالکرم ﷺ کی نذر ہے

 

ہجرِ طیبہ میں جو مُرجھایا تو دل کہنے لگا

اب مرا احساس بس اک چشمِ نم کی نذر ہے

 

آ رہی ہے جب اُمیدوں کی بھی طیبہ سے کرن

دل عزیزؔ احسن یہ پھر کیوں صرف غم کی نذر ہے ؟

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سوزِ دل چاہیے، چشمِ نم چاہیے اور شوقِ طلب معتبر چاہیے
آنکھوں کو جسجتو ہے تو طیبہ نگر کی ہے
کیا کچھ نہیں ملتا ہے بھلا آپ کے در سے
وہ کیا جہاں ہے جہاں سب جہاں اترتے ہیں
عکس روئے مصطفی سے ایسی زیبائی ملی
تو سب سے بڑا، تو سب سے بڑا، سبحان اللہ، سبحان اللہ
درِ نبی پہ نظر، ہاتھ میں سبوۓ رسولؐ
مصیبت میں پڑے ہیں ، اَنْتَ مَوْلٰنَا
سلام اس پر، کہ نام آتا ہے بعد اللہ کے جس کا
ہر آنکھ میں پیدا ہے چمک اور طرح کی