اردوئے معلیٰ

Search

جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہے

چاند کے ہمراہ ہم ہر شب سفر کرتے رہے

 

راستوں کا علم تھا ہم کو نہ سمتوں کی خبر

شہر نامعلوم کی چاہت مگر کرتے رہے

 

ہم نے خود سے بھی چھپایا اور سارے شہر کو

تیرے جانے کی خبر دیوار و در کرتے رہے

 

وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا اس شام بھی

انتظار اس کا مگر کچھ سوچ کر کرتے رہے

 

آج آیا ہے ہمیں بھی اُن اڑانوں کا خیال

جن کو تیرے زعم میں بے بال و پر کرتے رہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ