جس جا پہ ہے سُکوں وہ حرم ہے رسول کا

جس جا پہ ہے سُکوں وہ حرم ہے رسول کا

سچّائیوں کا دین، دھرم ہے رسول کا

 

بھٹکے ہوئے کو راہِ ہدایت دِکھائی ہے

انسان پہ کرم کیا یہ کم ہے رسول کا؟

 

اپنوں کے واسطے ہی نہیں اُن کی رحمتیں

اغیار پر بھی خاص کرم ہے رسول کا

 

بوبکر ہوں، عمر ہوں غنی یا کہ علی ہوں

ہر اِک کے دِل پہ نام رقم ہے رسول کا

 

میرے خدا کی مجھ پہ عنایات ہیں سبھی

خوابوں میں ہر گھڑی جو حرم ہے رسول کا

 

تھاما ہے جس نے دامنِ اصحاب اُن کے ہی

نعرہ لبوں پہ دَم ہمہ دَم ہے رسول کا

 

مجھ سے گناہگار پہ اُن کی نوازشیں

رب کی عطائیں بھی ہیں کرم ہے رسول کا

 

اِک دِن رضاؔ بھی جا کے مدینے میں بالضرور

دیکھے گا وہاں باغِ اِرم ہے رسول کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سوال : حُسن کی دنیا میں دیجیے تو مثال؟
محمدؐ کا حُسن و جمال اللہ اللہ
حُسن کی تشبیہ کے سب استعارے مسترد
جاری ہے فیض شہر شریعت کے بابؑ سے
سَگ پُرانے ہیں آپ کے آقا
بے خُود کِیے دیتے ہیں اَندازِ حِجَابَانَہ​
مرحبا! رحمت دوامی پر سلام
تاجدار جہاں یا نبی محترم (درود و سلام)
دوستو! نور کے خزینے کا
جو ان کے ہونٹوں پہ آ گیا ہے ، وہ لفظ قرآن ہوگیا ہے