اردوئے معلیٰ

جس در سے سخا پاتی ہے دینے کا قرینہ

جس در سے سخا پاتی ہے دینے کا قرینہ

وہ شہر ، مدینہ ہے مدینہ ہے مدینہ

 

اُمیدِ کرم عرصۂ ہجراں میں ہے اُن سے

ساحل پہ کسی طور لگا دیں گے سفینہ

 

خوشبو سے گل و لالہ و ریحان و سمن کی

بڑھ کر ہے مرے شاہِ اُمم تیرا پسینہ

 

تلوؤں سے ترے پائی ضیا خاکِ حرم نے

ہر ذرۂ طیبہ ہے تبھی مثلِ نگینہ

 

تجھ حسنِ دو عالم کی ہیں مشتاق یہ آنکھیں

چمکا دے مرے ماہِ مبیں میرا شبینہ

 

آپ آئیں تو اس دل کو قرار آئے مرے شاہ

سر خم ہے، قدم رکھنے کو حاضر ہے یہ سینہ

 

اے کاش ملے بارِ دگر شہرِ عطا میں

وہ سحری وہ افطار وہ رمضاں کا مہینہ

 

یہ صدقہ ہے تقلید کا جامی و رضا کی

جو مجھ کو ملا مدحتِ آقا کا قرینہ

 

منظر ہے کھڑا کاسہ بہ کف صحنِ حرم میں

کرتا ہے طلب شہرِ مدینہ میں دفینہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ