جس دل میں نور عشق ہے ذات الہ کا

جس دل میں نور عشق ہے ذات الہ کا

اس کو نہیں ہے خوف کوئی ماسواہ کا

 

اس کا تو ہر فقیر ہے دنیا کا تاجور

ہر تاجور فقیر ہے اس بادشاہ کا

 

ڈالی ہے اس نے دہر کو زنجیر وقت کی

گویا ہے یہ جو سلسلہ شام و پگاہ کا

 

شاہد ہے اس پہ گردش لیل و نہار بھی

مختار ہے جہان کے سفید و سیاہ کا

 

چاہے تو مچھروں سے دے نمرودیوں کو مار

چاہے تو زور مور کو بخشے سپاہ کا

 

ظالم تجھے تو فکر شکم نے ہی کھا لیا

اٹھ چارہ ڈھونڈ ظلمت قلب و نگاہ کا

 

کر اختیار جیسے بھی ہو راہ بندگی

ہاں زیست سے سلیقہ یہی ہے نباہ کا

 

پردے تعینات کے چیر اور دیکھ اسے

ہر ذرہ باب نور ہے اس بارگاہ کا

 

حمد خدا میں کیوں نہ گہر ریز ہو قلم

آسی گدا ہے سید رحمت پناہ کا​

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جو حقِ ثنائے خدائے جہاں ہے
مجھ پہ کیا اللہ کا انعام ہے
ہے سلطانوں کا ایک سلطان ​
خُدا کا ذِکر دِل میں، آنکھ نم ہے
خدا کا ذکر، ذکرِ دل کشا ہے
ہے تو عظمت نشاں آقا و مولا
جو چڑیاں چہچہاتی ہیں، خدا کی حمد ہے وہ بھی
خدا دل میں، خدا ہے جسم و جاں میں
خدا تک گر نہ ہو میری رسائی
خدا کا اعلیٰ ارفع مرتبہ ہے

اشتہارات