اردوئے معلیٰ

جس شخص نے کی آپ سے وابستگی قبول

 

جس شخص نے کی آپ سے وابستگی قبول

ہونے لگی پھر اُس کی ہر اِک ان کہی قبول

 

ایسا سبب بنے کہ مدینے میں جا بسوں

ہو جائے کاش میری تمنا دلی قبول

 

شہکارِ لم یزل ترے اوصاف بے مثال

سب انبیأ نے کی ہے تری برتری قبول

 

حصّہ بنے ہیں ہم جو سجائی وسیمؔ نے

آقا درود و نعت کی بارہ دری قبول

 

کہتا ہوں نعت ایک عبادت سمجھ کے میں

کرلیجئے گا شاہ مری شاعری قبول

 

عشقِ رسولِ پاک کا ہے فیض مرتضیٰؔ

جو ہو رہی ہیں ساری دعائیں مری قبول

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ