جس طرح حسیں گل کسی گلدان میں رکھا

جس طرح حسیں گل کسی گلدان میں رکھا

جب شعر کوئی نعت کا دیوان میں رکھا

 

یک لخت زمیں چومنے پلڑا چلا آیا

جب عشقِ محمدؐ مرا میزان میں رکھا

 

رکھے ہیں ثنا خوان جہاں بھر میں خدا نے

میں سندھ مکیں ہوں مجھے مہران میں رکھا

 

یوں عشقِ محمدؐ سے بھرا قلبِ حزیں کو

قِندیل کو میں نے دلِ ویران میں رکھا

 

کچھ اور بجز نعت نہیں رختِ سفر میں

سو راہِ عدم عشق کو سامان میں رکھا

 

مولود کا تحفہ ہے فقط اسمِ محمدؐ

آذان کی صورت جو اسے کان میں رکھا

 

کچھ اس سے نہیں بڑھ کے عطا کوئی نوازش

صد شکر کہ عاصی کو غلامان میں رکھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ان کی نگاہ لطف کا سایہ نظر میں ہے
رہ خیر الوری میں روشنی ہے
اے شہ انس و جاں جمال جمیل
ہمیں وہ اپنا کہتے ہیں محبت ہوتو ایسی ہو
تمنا ، آرزو حسرت مرے سینے میں رہتی ہے
کیا ذکر محمد نے تسکین دلائی ہے!
کارِ دشوار
دُعا کا آسمان
کون پانی کو اڑاتا ہے ہوا کے دوش پر​
امین فرش پہ پیغام لے کے آیا ہے