اردوئے معلیٰ

جس طرح حسیں گل کسی گلدان میں رکھا

جب شعر کوئی نعت کا دیوان میں رکھا

 

یک لخت زمیں چومنے پلڑا چلا آیا

جب عشقِ محمد مرا میزان میں رکھا

 

رکھے ہیں ثنا خوان جہاں بھر میں خدا نے

میں سندھ مکیں ہوں مجھے مہران میں رکھا

 

یوں عشقِ محمد سے بھرا قلبِ حزیں کو

قِندیل کو میں نے دلِ ویران میں رکھا

 

کچھ اور بجز نعت نہیں رختِ سفر میں

سو راہِ عدم عشق کو سامان میں رکھا

 

مولود کا تحفہ ہے فقط اسمِ محمد

آذان کی صورت جو اسے کان میں رکھا

 

کچھ اس سے نہیں بڑھ کے عطا کوئی نوازش

صد شکر کہ عاصی کو غلامان میں رکھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات