اردوئے معلیٰ

Search

جس کے دل میں ہے شہ دیں کی محبت آباد

مستقل اس میں رہی رب کی عنایت آباد

 

جس کے روحانی عزائم ہوں بلند و بالا

کیوں نہ ہو اس میں لطافت ہی لطافت آباد

 

ہو میسر ہمیں سرمایۂ تسلیم و رضا

ہم میں ہو جائے اگر ذوق عبادت آباد

 

بابِ اصلاح اس انساں کے لیے ہے مسدود

جس کی سوچوں میں ازل سے ہے شقاوت آباد

 

پارا پارا ہوا شیرازۂ غم پل بھر میں

ان کے دربار میں ایسی ملی راحت آباد

 

ان کی پر نور زباں کا ہے یہ فیضان کرم

سنگ دل میں بھی ہوا درِّ ہدایت آباد

 

جو نہ رکھتا ہو شریعت کے تقاضوں کا بھرم

غیر ممکن ہے کہ اس میں ہو طریقت آباد

 

تلخ تر فکر و نظر بھی ہوئی سرشار ان پر

ان کے ارشاد میں ایسی تھی حلاوت آباد

 

سرنگوں ہوگئے عالم کے محاسن قدسیؔ

رب نے یوں ان میں کیا نور ملاحت آباد

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ