اردوئے معلیٰ

Search

جس گھڑی لب پہ محمد کے ترانے آئے

ہاتھ میں ان کی محبّت کے خزانے آئے

 

سوئی قسمت تو مقدر بھی تھا روٹھا روٹھا

بخت لوگوں کے مرے آقا جگانے آئے

 

رحمتِ کون و مکاں آپ کی ہستی ٹھہری

سب کی تقدیر وہ دنیا میں بنانے آئے

 

لاج رکھ لی مرے آقا نے مری کشتی کی

لاکھ طوفاں مری کشتی کو بہانے آئے

 

در بدر پھرتے تھے سب لوگ ہدایت کے لیے

راستہ حق کا نبی ان کو دکھانے آئے

 

سرورِ دنیا و دیں حق کی گواہی لے کر

نقش باطل کے ہر اک دل سے مٹانے آئے

 

کفر کی شب نے زمانے کو تھا گھیرا زاہدؔ

شمع توحید کی سرکار جلانے آئے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ