اردوئے معلیٰ

Search

جفا کی اس سے شکایت ذرا نہیں آتی

وہ یاد ہی ہمیں شکر خدا نہیں آتی

 

نکل کے تا بہ لب آہ رسا نہیں آتی

کراہتا ہے جو اب دل صدا نہیں آتی

 

ہماری خاک کی مٹی ہے کیا خراب اے چرخ

کبھی ادھر کو ادھر کی ہوا نہیں آتی

 

شب وصال کہاں خواب ناز کا موقع

تمہاری نیند کو آتے حیا نہیں آتی

 

عدو ہماری عیادت کو لے کے آئے انہیں

کہاں یہ مر رہی اب بھی قضا نہیں آتی

 

لحد پہ آئے تھے دو پھول بھی چڑھا جاتے

ابھی تک آپ میں بوئے وفا نہیں آتی

 

مری لحد کو وہ ان کا یہ کہہ کر ٹھکرانا

صدائے نعرۂ صد مرحبا نہیں آتی

 

ستم ہے اور مرے دل شکن کا یہ کہنا

شکست شیشۂ دل کی صدا نہیں آتی

 

جلالؔ ہم یہ نہ مانیں گے تو اسے نہیں یاد

تجھے کبھی کوئی ہچکی بھی کیا نہیں آتی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ