جلالؔ عہد جوانی ہے دو گے دل سو بار

جلالؔ عہد جوانی ہے دو گے دل سو بار

ابھی کی توبہ نہیں اعتبار کے قابل

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

قہقہوں سے لدے پھندے ھوئے شخص
نیا کرایے دار یہ سُن کر کانپ رہا ہے
گماں یہی ہے کہ ہم لوگ زندہ رہ جائیں
چاشنی چاشنی لہجہ جس کا
ہاتھوں میں نازکی سے سنبھلتی نہیں جو تیغ
راہ الفت میں ملاقات ہوئی کس کس سے
اس کا درشت لہجہ اسے اس طرح
صدیوں میں کوئی ایک محبت ہوتی ہے
زندگی تجھ سے عبارت ہے میری جاں لیکن
شکستہ ہوں تو ہونے دو مری امید ٹوٹی ہے