جلا رہے ہیں زندگی سے یہ نصیب کا چراغ

جلا رہے ہیں زندگی سے یہ نصیب کا چراغ

ہوائے تند! رک! بجھا نہ تو غریب کا چراغ

 

درِ رسول پر جھکا ہوا ہوں پھر سے کبریا!

عطا ہو خاک زاد کو ترے حبیب کا چراغ

 

جہاں میں جس نے روشنی کو زاویے کئی دیے

کہ اس جہاں میں کیوں بجھے گا اس ادیب کا چراغ

 

تم اپنی اپنی ذات سے الجھ کے ہو گئے فنا

نشاں مگر ہے عزم کا یہاں حسیب کا چراغ

 

اتا ، پتا کوئی تو ان کو خضر کا عطا کرے

جو لے کے چل رہے ہیں ہاتھ میں نقیب کا چراغ

 

شبِ فراق ، جاں مری لیے بغیر کب ٹلی

نہ طاہر اب کے جل سکا مرے طبیب کا چراغ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ