اردوئے معلیٰ

Search

جلوؤں کا تصادم کیا کہیے ، یوں شعلہ و شبنم ہوتا ہے

ہے درد دوائے الفت بھی اور غم کا ہمدم ہوتا ہے

 

تم عشق مجھے سمجھاتے ہو ، میں جانتا ہوں میں مانتا ہوں

تعبیر ہے جس کی رنج و الم ، وہ خواب یہ ہمدم ہوتا ہے

 

ساحل پہ کھڑے ہیں حیرت سے جو ان کو خبر کیا طوفاں کی

ان بے چاروں کا حسرت میں دامن ہی پُرنم ہوتا ہے

 

اس راہ نوردی کے قرباں ، اس کی ہر مشکل کے صدقے

جس منزل کا ہر ایک قدم منزل سے مقدم ہوتا ہے

 

اب یا، درِ زنداں کھل جائے یا موجِ بہاراں ٹوٹ پڑے

دشتِ وحشت میں موسمِ گل دیوانوں کا ماتم ہوتا ہے

 

وہ اُجڑے یا آباد رہے دل تو دل ہی ہے خدا رکھے

یہ بُت خانہ ہو یا کعبہ ، رُتبہ میں کہاں کم ہوتا ہے

 

تجھ سے غفلت کی امید نہیں ، کیا تیرے کرم سے بعید نہیں

ہاں دل کو نوازش پر شک ہے ، کچھ درد جو کم کم ہوتا ہے

 

زاہد کی نیت کچھ بگڑی ہے جو بگڑی بگڑی باتیں ہیں

ساقی کو نظر لگ جائے گی مجھ کو تو یہ غم ہوتا ہے

 

پُر کیف جوانی کا نغمہ ، شرمیلی نظر ، تیکھے تیور

جو دل کے تار ہلا ڈالے ، یہ کون سا سرگم ہوتا ہے

 

لب تک جو ہلے سکھ سے کبھی یوں زلفِ پریشاں بل کھائی

یہ ناز تو حسن کو زیبا ہے ، کیا عشق بھی برہم ہوتا ہے

 

میں اُن کی نظر سے سنتا ہوں اپنی ہی نظر کا افسانہ

اے اہلِ خرد ، اے اہلِ جنوں ، یہ کونسا عالم ہوتا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ