جلوۂ ماہ ِ نو ؟ نہیں ؟ سبزہ و گل ؟ نہیں نہیں

جلوۂ ماہ ِ نو ؟ نہیں ؟ سبزہ و گل ؟ نہیں نہیں

عالم ِ رنگ و نور میں تجھ سا کوئی حسیں نہیں

 

شہر تو خیر شہر تھا ، دشت میں بھی نہ جی لگا

دربدری! مجھے بتا ، کیا مرا گھر کہیں نہیں ؟

 

جس سے نہ پڑ سکیں نشاں عشق کی سجدہ گاہ میں

ایسا جنوں جنوں نہیں ! ایسی جبیں جبیں نہیں

 

رکھتے ہیں مجھ کو روزو شب مست کسی کے سرخ لب

میرے خمار کا سبب بادۂ احمریں نہیں

 

جس نے قبول کر لیا ، نور سے خود کو بھر لیا

سورہ حُسن کی قسم ، عشق سا کوئی دیں نہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہمیں شعور جنوں ہے کہ جس چمن میں رہے
چاہے آباد ہوں، چاہے برباد ہوں، ہم کریں گے دعائیں تمھارے لئے
یاد رکھ ، خُود کو مِٹائے گا تو چھا جائے گا
بدن میں دل کو رکھا ہے بنا کے خانہِ عشق
کچھ تو اپنے ہیں مرے دل میں سمائے ہوئے لوگ
وہ بھی اب مجھ کو بہ اندازِ زمانہ مانگے
اِس سے پہلے کہ کوئی اِن کو چُرا لے، گِن لو
کسی بھی طَور بہلتا نہیں جنُوں تیرا
اذیت سب کا ذاتی مسئلہ ہے
ایک منظر ہے فروزاں دودھیا قندیل میں