اردوئے معلیٰ

جلوۂ ماہ ِ نو ؟ نہیں ؟ سبزہ و گل ؟ نہیں نہیں

جلوۂ ماہ ِ نو ؟ نہیں ؟ سبزہ و گل ؟ نہیں نہیں

عالم ِ رنگ و نور میں تجھ سا کوئی حسیں نہیں

 

شہر تو خیر شہر تھا ، دشت میں بھی نہ جی لگا

دربدری! مجھے بتا ، کیا مرا گھر کہیں نہیں ؟

 

جس سے نہ پڑ سکیں نشاں عشق کی سجدہ گاہ میں

ایسا جنوں جنوں نہیں ! ایسی جبیں جبیں نہیں

 

رکھتے ہیں مجھ کو روزو شب مست کسی کے سرخ لب

میرے خمار کا سبب بادۂ احمریں نہیں

 

جس نے قبول کر لیا ، نور سے خود کو بھر لیا

سورہ حُسن کی قسم ، عشق سا کوئی دیں نہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ