جمالِ مصطفیؐ پیشِ نظر ہے

جمالِ مصطفیؐ پیشِ نظر ہے

مشرف دید سے دیدۂ تر ہے

 

محبت میرے دِل میں مصطفیؐ کی

خُدا کا مرتبہ، پیشِ نظر ہے

 

خُدا کی نعمتیں دستِ نبیؐ سے

سخا کا سلسلہ، پیشِ نظر ہے

 

محبت، عشق و عرفاں، کیف و مستی

نبیؐ کی ہر عطا، پیشِ نظر ہے

 

کرم اللہ کا، رحمت نبیؐ کی

عطا بے انتہا، پیشِ نظر ہے

 

رواں عُشاق ہیں طیبہ کی جانب

انوکھا قافلہ پیشِ نظر ہے

 

دیارِ مصطفیؐ میں لے چلے جو

ظفرؔ! وہ راستا پیشِ نظر ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جب مسجد نبویﷺ کے مینار نظر آئے
اعلیٰ واطہر و اکمل وکامل صلی اللہ علیٰ محمد
جو ترے در پہ، دوانے سے آئے بیٹھے ہیں
ایسے ہو حُسنِ خاتمہء جاں نثارِ عشق
مرے آقا کی مسجد کے منارے داد دیتے ہیں
یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
جلوہ گر مشعل سرمدی ہوگئی
ختم ہونے ہی کو ہے در بدری کا موسم
کھویا کھویا ہے دل، ہونٹ چپ، آنکھ نم، ہیں مواجہ پہ ہم
جہاں میں وہ ازل کے حُسن کا آئینہ دار آیا