جمالِ مصطفی پیشِ نظر ہے

جمالِ مصطفی پیشِ نظر ہے

مشرف دید سے دیدۂ تر ہے

 

محبت میرے دِل میں مصطفی کی

خُدا کا مرتبہ، پیشِ نظر ہے

 

خُدا کی نعمتیں دستِ نبی سے

سخا کا سلسلہ، پیشِ نظر ہے

 

محبت، عشق و عرفاں، کیف و مستی

نبی کی ہر عطا، پیشِ نظر ہے

 

کرم اللہ کا، رحمت نبی کی

عطا بے انتہا، پیشِ نظر ہے

 

رواں عُشاق ہیں طیبہ کی جانب

انوکھا قافلہ پیشِ نظر ہے

 

دیارِ مصطفی میں لے چلے جو

ظفرؔ! وہ راستا پیشِ نظر ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ