اردوئے معلیٰ

Search

جمال عکس محمدی سے فضائے عالم سجی ہوئی ہے

قرارِ جاں بن کے زندگی میں انہی کی خوشبو بسی ہوئی ہے

 

خدائے واحد کی بن کے برہاں حضور آئے ہیں اس جہاں میں

دکھوں سے جلتی ہوئی زمیں پھر ہر ایک غم سے بری ہوئی ہے

 

نجانے کیسا کمال دیکھا نبی کا جس نے جمال دیکھا

حواس گم سم نگاہ حیراں زباں کو چپ سی لگی ہوئی ہے

 

سمندروں کی تہوں سے لے کر مقام سدرہ کی رفعتوں تک

مرے نبی کے کرم کی چادر ہر اک جہاں پر تنی ہوئی ہے

 

تمام چاہت کے روگیوں کا عجیب ہم نے کمال دیکھا

جدا جدا صورتیں ہیں لیکن دلوں کی دھڑکن جڑی ہوئی ہے

 

وہی حقیقت میں زندگی ہے وہی حقیقت میں بندگی ہے

جو میرے سرکار کی محبت کے راستوں پر پڑی ہوئی ہے

 

انگشتری میں نگینہ جیسے زمیں کے دل پر مدینہ جیسے

حضور اس طرح آسؔ تیری، مری نظر میں جڑی ہوئی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ