اردوئے معلیٰ

جنتِ گم کشتہ

ائے جنتِ گم گشتہ اک اور بلاوا دے
ہم شہر بدر کب سے بے سمت بھٹکتے ہیں
بے جان زمینوں پر ،
بے کار سفر کرتے تھک ہار گئے آخر
رستوں نے لہُو چُوسا ، غم مار گئے آخر
اک عمر تلک ہم نے خود کو یہی سمجھایا
مڑنے کو مچلتا دل اس بات سے بہلایا
اک شہر ہی تھا کوئی اقلیم نہیں تھا وہ
اک قطعہ اراضی تھا ، اور ارض وسیع ٹھہری
اک اور قدم اور پھر ، اک اور بلاوا ہے
اُس پار کی بارش میں ، اِس غم کا مداوا ہے
اک اور قدم ، اور پھر اک اور دھنک دھرتی
آنچل سا سبک موسم ، چُوڑی کی کھنک دھرتی
اک اور قدم ، رہرو ، اک اور قدم اُٹھے
رستوں کی طنابوں پر وحشت کا عَلم اُٹھے
وہ دُور جو پربت پے، پربت سے پرے چشمہ
چشمے سے کوئی پائل ، پربت سے کوئی نغمہ
بس ایک مسافت کی دُوری سے بُلاتے ہیں
بس کھینچ بھی لو دامن، قدموں کو بڑھاتے ہیں
اک اور مسافت کی تلوار پہ رقصاں ہو
اس جوشِ مسافت کی رفتار پہ نازاں ہو
اور دل کہ بہت سادہ
ہر بات میں آتا تھا
یا ، یوں کہ یہ دوراہا حالات میں آتا تھا
ہم چل ہی پڑے آخر ، چشمے کی چھنک سُننے
پربت کے صنوبر سے ، نغموں کی دھنک چُننے
پربت کی دھنک اوڑھی ، چشمے کی چھنک چومی
راتوں کی مہک چکھی ، صبحوں کی کسک چومی
اک تند بگُولے کی باچھوں میں لگامیں تھیں
ہر نخل میں دوپہریں ، ہر دشت میں شامیں تھیں
لیکن کسے بتلائیں ، اک روز فسوں ٹوٹا
یہ راز کھلا جبکہ پندارِ جنوں ٹوٹا
چشمے سے پرے وادی، وادی سےپرے دریا
دریا سے پرے میداں ، میداں سے پرے صحرا
صحرا سے پرے رستہ ، رستے سے پرے گلشن
گلشن سے پرے گلیاں ، گلیوں سے پرے آنگن
آنگن سے پرے دنیا ، اور اُس سے پرے وحشت
دنیا کی یہی وسعت ، اور عمر کی یہ مدت ؟
تھک ہار گئے آخر ، پتوار گئے آخر
امید گئی آخر ، آثار گئے آخر
بے سمت سفینے کے عرشے کے سرہانے پر
سوتے ہیں کوئی دم میں، ہم نیند کے آنے پر
دل گیر و جگر کُشتہ
ائے جنتِ گم گشتہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ