جنگ اندھیرے سے بادِ برہم تک

جنگ اندھیرے سے بادِ برہم تک

ہے چراغوں کی آخری دم تک

 

آدمی پر نجانے کیا گزری

ابنِ آدم سے ابنِ درہم تک

 

تم مسیحا کی بات کرتے ہو؟

ابھی خالص نہیں ہے مرہم تک

 

معجزہ دیکھئے توکل کا

ریگِ صحرا سے آبِ زمزم تک

 

داستاں ہے شگفتنِ دل کی

خندۂ گل سے اشکِ شبنم تک

 

اک سفر ہے کہ طے نہیں ہوتا

سرخ ہجرت سے سبز پرچم تک

 

فاصلے کیسے، دوریاں کیسی؟

جن کو ملنا تھا آ گئے ہم تک

 

پیار دھرتی پہ ہے خلا میں نہیں

آسماں کو ظہیؔر کم کم تک

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نہ عشق میں نہ ریاضت میں دھاندلی ھُوئی ھے
جلوۂ ماہ ِ نو ؟ نہیں ؟ سبزہ و گل ؟ نہیں نہیں
اسی کے ہاتھ میں اب فیصلہ تھا،ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا
یہ میرا دل ہے کہ خالی پڑا مکاں کوئی ہے؟
جہان بھر میں کسی چیز کو دوام ہے کیا ؟
!بس ایک جلوے کا ہوں سوالی، جناب عالی
اِسی میں چھُپ کے بلکنا ، اِسی پہ سونا ہے
تمہارے لمس کی حدت سے تن جھلستا تھا
یہی کمال مرے سوختہ سخن کا سہی
مجھے اب مار دے یا پھر امر کر

اشتہارات