اردوئے معلیٰ

جنہیں تیرا نقش قدم ملا، وہ غم جہاں سے نکل گۓ

جنہیں تیرا نقش قدم ملا، وہ غم جہاں سے نکل گۓ

یہ میرے حضور کا فیض ہے کہ بھٹک کے ہم جو سنبھل گۓ

 

پڑھو صل علی نبینا صل علی محمد

پڑھو صل علی شفیعنا صل علی محمد

 

ہو تیرے کرم کا جواب کیا تیری رحمتوں کا حساب کیا

تیرے نام نامی سے غم کدوں میں چراغ خوشیوں کے جل گۓ

 

پڑھو صل علی نبینا صل علی محمد

پڑھو صل علی شفیعنا صل علی محمد

 

تو ہی کائنات کا راز ہے ، تیرا عشق میری نماز ہے

تیرے در کے سجدے میرے نبی میری زندگی بدل گئے

 

پڑھو صل علی نبینا صل علی محمد

پڑھو صل علی شفیعنا صل علی محمد

 

تو مصوری کا کمال ہے تو خدا کا حسن خیال ہے

جنہیں تیرا جلوہ عطا ہوا، وہ تیرے جمال میں ڈھل گئے

 

پڑھو صل علی نبینا صل علی محمد

پڑھو صل علی شفیعنا صل علی محمد

 

تھے ہزار صدیوں کے فاصلے جو رسول پاک نے طے کیۓ

وہ تو اک رات کی بات تھی کہ زمانے جس سے بدل گئے

 

پڑھو صل علی نبینا صل علی محمد

پڑھو صل علی شفیعنا صل علی محمد

 

یہ حلیمہ تجھ کو خبر نہ تھی کہ وہی زمانے کے تھے نبی

وہ خدا کے کتنے قریب تھے ، تیری گود میں جو بہل گئے

 

پڑھو صل علی نبینا صل علی محمد

پڑھو صل علی شفیعنا صل علی محمد

 

تیرا بندہ واصف بے خبر ، تیرا راز سمجھا ہے اس قدر

تجھے جب پکارا بہ چشم تر کئی مرحلے تھے جو ٹل گئے

 

پڑھو صل علی نبینا صل علی محمد

پڑھو صل علی شفیعنا صل علی محمد

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ