اردوئے معلیٰ

Search

جنہیں کوئی نہ پوچھے اُن کو سینے سے لگاتے ہیں

وہ رحمت ہیں سبھی پر رحمتوں کے دُر لٹاتے ہیں

 

اگر دشمن بھی آ جائے تو اُس سے پیار کرتے ہیں

وہ پتھر مارنے والوں سے بھی اچھا نبھاتے ہیں

 

اگر وہ مسکرادیں تو اندھیرے جگمگا اُٹھیں

بنا گٹھلی اگر چاہیں کجھوریں بھی اُگاتے ہیں

 

چلے آؤ ادب کرتے درِ خیرالوریٰ پہ سب

گنہگاروں کو وہ بخشش کے مژدے بھی سناتے ہیں

 

پہن کر تاج اک اُن کی ثنا خوانی کا محشر میں

ثنا خوانِ محمد شان سے جنت کو جاتے ہیں

 

خدائی جھوم اُٹھتی ہے ، زمانے نور پاتے ہیں

رضاؔ جب حضرتِ والا نقابِ رُخ اٹھاتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ