جن کے سینے میں ہے اکرام علی اکبر کا

جن کے سینے میں ہے اکرام علی اکبر کا

ذکر کرتے ہیں وہ ہر شام علی اکبر کا

 

ان کو بخشی ہے شہادت نے حیاتِ ابدی

رونقِ خلد ہے انعام علی اکبر کا

 

کربلا جائیں گے سادات کی خوشبو لینے

جن میں ضو بار ہے اک نام علی اکبر کا

 

روشنی کیا ہے یہ اندازہ بھی ہو جائے گا

دامنِ نور ذرا تھام علی اکبر کا

 

نقدِ جاں پیش کیا دینِ محمد کے لئے

قابلِ رشک ہے یہ کام علی اکبر کا

 

دل کو سرشار کئے دیتا ہے الفت کا وفور

نام جب لیتا ہوں گلفام علی اکبر کا

 

میرے ہمراہ چلے سرخ گلابوں کا ہجوم

ساتھ مل جائے جو دو گام علی اکبر کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اصحابِ نبیؐ کی باتیں ہیں گلزارِ عقیدت کھل اُٹھا
حسینؑ! تیرے لہو سے ہے تربتر صحرا
ہوا ہوں دادِ ستم کو میں حاضرِ دربار
وہ سامنے غنیم کی فوجیں ہیں دجلہ پار
حضرت حسینؓ کتنے ہیں مظلوم! آج تک
ملا نصیب سے مجھ کو جو غم حسین کا ہے
قبا گلوں کی ہے پہنے ترا خیال حسین
دیارِ نور میں جناں کا باغ رکھ دیا گیا
لپٹ کر سنگِ در سے خوب رو لوں
شاہِ مدینہ! طلعت اختر تورے پیّاں میں

اشتہارات