اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

جوکر

ایک سہانی شام تھی شاید
پائل کی جھنکار کو لے کر
وہ میرے کمرے میں آئی
میز پہ رکھی تاش کی ڈبیا
کھول کے اُس نے سارے پتے
شوخ سے اِک انداز میں آکر
میری جانب پھینک دیئے تھے
میں آنکھوں میں دھر حیرانی
اپنی گود اور چاروں جانب
بکھرے پتے دیکھ رہا تھا
اینٹ کی اٹھّی، چڑیا کی ستّی
پان کی دسّی، حُکم کا چوکا
سب کے سب حیرت میں ڈوبے
اُس کا چہرہ دیکھ رہے تھے
آدھی رات کے سناٹے میں
اُس کی ہنسی سے میں جب چونکا
اُس کے ہاتھ میں دو پتے تھے
ہنستے ہنستے، اُکھڑی اُکھڑی سی آواز میں
مجھ سے بولی
چاہے رنگ ہو، یا بھابی ہو
منگ پتا، یا کھیل ہو دل کا
مِرے حساب میں زینؔ پیا جی
بالکل ایسے جوکر ہو تم
جیسے میرے ہاتھ میں دونوں
سارے پتوں کے سنگ رہ کر
ہر اِک کھیل شروع ہوتے ہی
تم محروم ہی رہ جاتے ہو‘‘
پھر اُس نے وہ دونوں جوکر
باری باری پھینک دیئے تھے
اور کمرے سے رُخصت ہو کر
جانے کون سے دیس بسی وہ
اور اب مدت بیت چکی ہے
آج اُسی کمرے میں آکر
وہی کہانی سوچ رہا ہوں
پلنگ پہ بکھرے تاش کے پتے
ہاتھ میں دونوں جوکر لے کر
گھنٹوں بیٹھا دیکھ رہا ہوں
شاید وہ بھی کسی گھڑی میں
میرے بارے سوچ رہی ہو
جیسے کوئی حُکم کی بیگم
پان کا راجہ کھوج رہی ہو
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تمام رات مرے جسم و جاں مہکتے رھے
وہ عجیب خانہ بدوش تھا
صبحِ آزادی
شکست
مالک ترا کیا جاتا
دل آپﷺ کی خوشبو سے ہے آباد نبیﷺ جی
زینؔ تاروں کا رازداں ہوں میں
چَل آ اِک ایسی نظم کہوں ، جو لفظ کہوں وہ ہو جائے
عرضی
مکالمہ مابین مسلمان اور سوشلسٹ