اردوئے معلیٰ

Search

جو انداز ثنا میرا جدا معلوم ہوتا ہے

صریحاً صدقۂ خیر الوریٰ معلوم ہوتا ہے

 

نبی کے شہر کی تابندگی کا حال یہ دیکھا

وہاں کا ذرہ ذرہ طور کا معلوم ہوتا ہے

 

زبان رنگ و بو سے گلشن ہستی کا اک اک گل

درود پاک ہی پڑھتا ہوا معلوم ہوتا ہے

 

چھپائے ہے فلک سینے میں کتنے راز سر بستہ

مجھے تو یہ ردائے فاطمہ معلوم ہوتا ہے

 

طریق مصطفیٰ پر گامزن جو بھی ہوا اس کا

ہر اک نقش قدم راہ ھدیٰ معلوم ہوتا ہے

 

کفیل ارباب علم و فن میں جو پہچان ہے تھوڑی

یہ فیضان حبیب کبریا معلوم ہوتا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ