جو ان کے ہونٹوں پہ آ گیا ہے ، وہ لفظ قرآن ہوگیا ہے

جو ان کے ہونٹوں پہ آ گیا ہے ، وہ لفظ قرآن ہوگیا ہے

جو لفظ قرآن ہو گیا ہے ، وہ میرا ایمان ہوگیا ہے

 

جو ان کے تلووں سے لگ گئے ہیں وہ ذرّے خورشید بن گئے ہیں

جو ان کے قدموں نے چھو لیا ہے وہ سنگ مرجان ہو گیا ہے

 

یہ وقت کی نبض تھم گئی کیوں ؟ خموش کیوں ہے نظام ہستی

ملک ہیں ششدر ، کہ عرش پر آج کون مہمان ہوگیا ہے

 

مجھے مدینے کا شوق تھا پر ،نہ زاد تقویٰ نہ زاد راہ تھا

درود پڑھتا رہا میں ان پر، تو کام آسان ہوگیا ہے

 

یہ چھوٹی چھوٹی سی مملکت کے ہیں چھوٹے چھوٹے سے حکمراں سب

جو ان کے در کا گدا ہوا ہے ، جہاں کا سلطان ہو گیا ہے

 

میرے پیمبر ہیں شان والے ، ہے ان کا سینہ وہ شان والا

کہ ان کے سینے سے لگ گیا جو ، وہ سینہ زی شان ہو گیا ہے

 

جو اس کو مردہ سمجھ رہا ہو ، یقین کر لے وہ خود ہے مردہ

حیات جاوید اس نے پائی ، جو ان پہ قربان ہو گیا ہے

 

زمیں پہ میرے حبیب کے جو مدح خواں ہیں وہ جنّتی

خدا کی جانب سے حشر میں چار سو یہ اعلان ہو گیا ہے

 

یہ میرا اعزاز ہے یقیناً ہیں مجھ کو سلمان ناز اس پر

کہ ان کی مدحت سرائی کرنا ، جو میری پہچان ہو گیا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مرے محبوب، محبوبِ زماںؐ ہیں
نظر کا دھوکہ ہے نام و نمود لا موجود
اے ختمِ رسل نورِ خدا شاہِ مدینہ
شعبِ احساس میں ہے نور فِشاں گنبدِ سبز
حشر میں پھیلے گا جب سایۂ غُفرانِ وسیع
حرف، احساس سے فائق نہیں ہونے والے
سب سے اعلٰی ہیں سب سے برتر ہیں
پردۂ ہجر نگاہوں سے سرکتا دیکھوں
مجھ کو یقیں ہے آئے گی امید بر کبھی
یہ جو میری آنکھیں ہیں میرے رب کی جانب سے مصطفےٰ کا صدقہ ہیں

اشتہارات