اردوئے معلیٰ

جو باد صبح مدینے سے جھومتی آئی

جو باد صبح مدینے سے جھومتی آئی

گل مراد کھلا، دل میں تازگی آئی

 

قدم حضور نے رکھے جو باغ عالم میں

نکھار آیا، بہار آئی، دلکشی آئی

 

مرے نبی تری طرز حیات کے صدقے

جہاں میں امن و اماں آئے، آشتی آئی

 

ہوا جو شاملِ احوال لطف شاہ ہدیٰ

فنا رسیدہ نظاروں میں زندگی آئی

 

قبائے نور جو پہنے مرے نبی آئے

مٹا نشان اندھیروں کا، روشنی آئی

 

یہ بات آج بھی مجھ کو بہت ستاتی ہے

نبی کے شہر سے واپس میں کیوں چلی آئی

 

بفیض حضرت نوّاب اے صدف مجھ کو

ملا سلیقۂ مدحت، ثنا گری آئی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ