اردوئے معلیٰ

جو بھی کرے گا آپ کی مدحت مرے حضور

پائے گا دو جہاں میں وہ راحت مرے حضور

 

محشر میں نفسی نفسی کی ہوگی پکار جب

مجرم کو ڈھونڈے گی تری رحمت مرے حضور

 

پائی ہے جس نے گلشن "​من زار” کی مہک

اس کو ملے گی تیری شفاعت مرے حضور

 

صورت کسی کی بھائے گی کیسے بھلا اسے

جس نے بھی کی ہے تیری زیارت مرے حضور

 

اس کو ملے گی رب کی رضا اور آپ کی

جو بھی کرے گا آپ سے الفت مرے حضور

 

پڑھتا ہے جو درود شب و روز آپ پر

اس کو ملے گی قبر میں راحت مرے حضور

 

کرتا ہے جب ثنا تری خلاقِ کائنات

مجھ سے بیاں ہو کیا تری مدحت مرے حضور

 

مثلِ قمر چمکتے ہیں وہ سب جہان میں

حاصل ہے جن کو تیری حمایت مرے حضور

 

بہر سلام آتے ہیں صبح و مسا ملَک

ظاہر ہے اس سے آپ کی عظمت مرے حضور

 

اس کی بہار جس نے بھی دیکھی وہ کہہ اٹھا

دربار تیرا لگتا ہے جنت مرے حضور

 

اک بار اپنے در پہ بلا لیجیے مجھے

تڑپا رہی ہے آپ کی فرقت مرے حضور

 

مدت سے تیری یاد میں "​کیفی” ہے مضطرب

ہو جائے آج اس کو زیارت مرے حضور

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات