اردوئے معلیٰ

جو جبیں تیرے در پہ خم ہی نہیں

وہ زمانے میں محترم ہی نہیں

 

اس لئے دل اداس رہتا ہے

دل لگی کو کوئی صنم ہی نہیں

 

اب اسے میں کریم کیسے کہوں

یعنی جو مائل کرم ہی نہیں

 

بحر دل خشک ہوگیا شاید

آج آنکھیں ہماری نم ہی نہیں

 

میرا ساقی ہے ساقیء کوثر

مجھ کو تشنہ لبی کا غم ہی نہیں

 

اس مرض کا علاج کیسے کروں

"​غم تو یہ ہے کہ کوئی غم ہی نہیں”​

 

یہ ترے بازوؤں کا صدقہ ہے

خم وفا کا کہیں علم ہی نہیں

 

کیا اٹھائے گا تو علم حق کا

بازوؤں میں ترے تو دم ہی نہیں

 

مجھکو کیوں کہہ رہے ہو دہشت گرد

میرے ہاتھوں میں کوئی بم ہی نہیں

 

ڈوبنا چاہتا ہوں میں لیکن

عشق کا یاں پہ کوئی یم ہی نہیں

 

تم سے دشمن بھی پیارے کرتے ہیں

عاشقوں میں تمہارے ہم ہی نہیں

 

کون مجھ سے کرے گا اب یاری

میں کوئی صاحب درم ہی نہیں

 

قلب مضطر بھلا کہاں جائے

بہر تسکیں کوئی حرم ہی نہیں

 

کیا طرفدار ہو ستمگر کے

سر تمہارا ہوا قلم ہی نہیں

 

جس پہ جا کے سوال کرنا پڑے

وہ تو نوری در کرم ہی نہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات