جو حقِ ثنائے خدائے جہاں ہے

جو حقِ ثنائے خدائے جہاں ہے

زبان و دہاں میں وہ طاقت کہاں ہے

 

لکھوں وصف کیا اپنے منعم خدا کا

کیا اس نے انعام و احسان کیا کیا

 

عدم سے کیا اس نے موجود ہم کو

دیا خلعتِ زندگانی عدم کو

 

عطا کر کے علم و خرد ، فہم و بینش

بشر کو کیا زیورِ آفرینش

 

کہاں تک کرے کوئی نعمت شماری

کہاں تک کرے کوئی اوصافِ باری

 

کرے کوئی تشریح و تفصیل کیا کیا

کہ عاجز ہے یاں عقلِ تشریح پیرا

 

بھلا کس کو مقدورِ حمدِ خدا ہے

تحیر تحیر تحیر کی جا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہر طرف کائنات میں تم ہو
تُو نے مجھ کو حج پہ بُلایا یا اللہ میری جھولی بھردے
جو چھوڑتا نہیں مجھے تنہا وہی تو ہے
نہیں دل کے مدینے میں کوئی جلوہ نہاں اُس کا
خدا میرا شفیق و مہرباں ہے
سرورِ قلب و جاں ہے، ربِ ہست و بُود تُو ہی تُو
خدا کے ذکر سے دل مطمئن ہیں، خدا کے ذکر سے مسرور جاں ہے
سبھی آفاق سے وہ ماوراء ہے
خدا نے کی عطا اپنی محبت
عبادت ہو خُدا کی اِس ادا سے

اشتہارات