اردوئے معلیٰ

Search

جو دل دھڑک رہے تھے وہ دف بھی نہ ہو سکے

اس بار معرکے میں ہدف بھی نہ ہو سکے

 

پھر ڈھونڈنا پڑا ہے اسی چیرہ دست کو

یہ خواب اپنے آپ تلف بھی نہ ہو سکے

 

موتی تو ہو چکا تھا دل و جان سے کوئی

لیکن یہ ہاتھ ہیں کہ صدف بھی نہ ہو سکے

 

اس صف شکن جنونِ بلا خیز کے لیے

اپنے قلیل خواب تو صف بھی نہ ہو سکے

 

جب رن پڑا تو پھر کوئی تفریق تھی کہاں

وہ کٹ مرے جو تیغ بکف بھی نہ ہو سکے

 

ناصر کتابِ عمر کی بوسیدگی نہ پوچھ

اتنی ہے فرد فرد کہ لف بھی نہ ہو سکے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ